غصہ ایک جذبہ ہے جو میں روز مرہ زندگی میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے غصہ کی تباہی سے بھی ہم واقف ہیں پر کیا ہم اس پر قابو پانے کی قدرت بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟؟؟
غصے کا اظہار ہمارے تعلقات، مواقع اور شخصیت کو نقصان پہنچانے کے علاوہ طبعی صحت کو بھی برباد کر کے رکھ دیتا ہے تحقیق کے مطابق جو شخص مسلسل غصے پر قابونہ پاسکے جو شخص غصہ آنے کی صورت میں ہر دفعہ بے قابو ہوجاتا ہے بلند فشار خون دل کا دورہ اور موٹاپے جیسے امراض کا شکار آسانی سے ہو سکتا ہے اور یہ امراض زندگی کی طوالت کو کم کرتے ہیں۔
غصہ ایک ناخوشگوار احساس ہے جو معمولی چڑ چڑے پن سے ناراضگی اور اس سے بڑھ کر حسد اور لڑائی کا سبب بن سکتا ہے۔
غصہ آخر کیوں آتا ہے؟؟؟
عام طور پر غصہ Frustration دکھ بلا جواز زیر اثر رکھنے اور نا انصافی پر آتا ہے یا پھر ایسی تنقید جس کے بارے میں آپ سمجھتے ہوں کہ یہ نا جائز ہے ڈرانے دھمکانے یا ان خیالات اعتقادات کو چیلنج کرنا جو ہمیں بہت عزیز ہوں غصہ دلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
غصہ پر قابو پانا اس لیے بھی مشکل ہے کہ مختلف لوگ مختلف وجوہات سے غصے میں آسکتے ہیں جو وجہ آپ کیلئے انتہائی غصہ آور ہو وہ کسی اور کیلئے محض نا قابل تحسین ہو سکتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا رد عمل ہی وہ واحد چیز ہے جو غصہ کی حد کو متعین کرتی ہے۔ غصہ آنے کے سارے پہلو پر خطر نہیں کیونکہ مناسب تدارک غصہ آپ کو توانائی بخشتا ہے تا کہ آپ اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے ارد گرد واقع ہونے والی نا پسندیدہ چیزوں کا تدارک کریں اپنے مسائل حل کریں اور حالات و واقعات سے واقف حال ہو کر صحیح عملداری کریں۔
دراصل غصہ ایک جذبہ Emotion ہے جو کہ جائز ہے اور ہر ذی حیات کو آتا ہے اور آئے گا مگر اس کا اظہار کس طرح سے کرتا ہے یہ آپ پر منحصر ہے البتہ لڑائی بھڑائی ایک ایسا عمل ہے جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اور بے قابو غصہ انتہائی منفی راستہ ہے جو آپ کے دوستوں رشتہ داروں، چھوٹے بڑوں اور Colleagues سے تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے خاص طور پر جب فوراً غصہ آتا ہو اور آپ اس میں بے قابو ہو جائیں۔ غصہ آپ کی مثبت حل تلاش کرنے اور قوت فیصلہ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور اس طرح سے آپ کی شخصیت کو بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔
ہم غصہ پر قابو پاسکتے ہیں اگر ہم اس کو اپنے آپ غالب آنے سے پہلے ہی گرفت میں لے لیں اور اس کیلئے مندرجہ ذیل نقاط قابل غور ہیں ۔
اقرار کرنا: کسی بھی فعل اور عمل میں درستگی کا احتمال صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب اس میں اسی خرابی کی موجودگی کا اقرار کریں تو سب سے پہلے یہ غور کیجئے کہ آیا غصہ آپ کا مسئلہ ہے بھی یا نہیں۔
کیا آپ کو اندازہ ہے کہ کون سی صورت حال یا شخصیت آپ کیلئے غصہ آور ہے جب آپ کو یہ ادراک ہوگا کہ وہ کون سا موقع محل ہے تو پھر اس کی پیش بندی بھی کی جاسکتی ہے۔
اپنے قریبی عزیز دوستوں سے اس کا ذکر کیجئے تا کہ آپ اپنی بات پر کے رہ سکیں اور سقم کی صورت میں دو آپ کو احساس دلا سکیں اور آپ اپنے فیصلہ پر قائم رہ سکیں۔ عزیز واقرباء کا رشتہ بھی لین دین کے اصولوں پر چلتا ہے اپنی مصروفیت میں سے ہر روز کچھ وقت ان کیلئے وقف رکھیں اور ان رشتوں کو مضبوط اور توانا رکھیں تا کہ وہ آپ کیلئے اور آپ ان کیلئے موجود بوقت ضرورت موجود ہوں اس طرح سے آپ مصروف زندگی کے اعصابی تناؤ اور غصہ پر بھی قابو پاسکیں گے۔
انتہائی اہم قدم یہ ہے کہ آپ جب غصہ محسوس کریں تو اسے شیطانی چکر میں پڑنے سے پہلے ہی ختم کرنے کی کوشش کریں۔ (شیطانی چکر غصہ اور غصہ اور غصہ کو بلاتا ہے)۔ جب غصہ کا احساس ہو تو اپنے دماغ میں زور سے “رک جا” کی آواز لگا ئیں تا کہ غصہ کا شیطانی چکر ختم کرسکیں۔ اعصابی اور ذہنی تناؤ کم کرنے کیلئے لیے لمبے سانس لیں اور کسی ایک نقطہ پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کریں جس طرح مراقبه کیا جاتا ہے۔ 20 تک گنتی گئیں، کسی خوش کن خیال کو زیر نظر لے آئیں، چہل قدمی کریں۔
دوسرے کی نظر سے دیکھنا جو عمل یا شخص غصہ کا باعث بنا ہو اس کی جگہ کھڑے ہو کر سوچیں، غصے کی ماہیت کا اندازہ لگائیں کہ ان حالات میں اتنا غصہ مناسب ہے۔ سقراطی سوال جواب کریں پھر کیا ہو جائے گا؟ غصے سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا ئیں کیا آپ ان کے متحمل ہو سکتے ہیں مثلاً غصہ پر عمل کی صورت میں پابند سلاسل ہو کر اپنی روزی سے اور بچوں سے دور ہوتا بدنامی کا باعث بنا وقت ضائع کرنا مجھے یاد ہے
اپنے غصے میں مزاح تلاش کرنا
اپنے اندر ہی ان حالات کو گھمبیر کر کے پیش کرنا اور اپنی خاص الخاص حیثیت کے احساس پر ہنسنا مثلاً اگر آپ کا ماتحت کسی وجہ سے کام پر نہ آسکا ہو اور آپ کا اہم کام رک گیا ہو تو اس طرح سے سوچنا کہ ہاں یہ تو کئی دنوں سے انتظار کر رہا تھا کہ بس موقع آئے تو دھو کہ دوں اور اس کو ذلیل اور قلیل کر دوں اور ہاں یہ تو کیا سارے ہی گردو نواح میرے خلاف ہو گئے ہیں بس میرے ہی پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ اسے رسوا کریں۔ ہوں جو اتنی ہی اہم شخصیت اور پھر اس سوچ پر قہقہ لگا ئیں اور غصہ سے نجات پائیں۔
اپنی ذات اورگردونواح پر اعتماد رکھیں عام طور پر غصہ پر ورسنکی ہوتے ہیں اور اس طرح سے سوچنے ہیں کہ لوگ جان بو جھ کر انہیں تنگ کرتے ہیں حالانکہ لوگوں کے پاس ان کیلئے سوچنے کا اتنا وقت ہی نہیں ہوتا جتنا یہ سمجھتے ہیں۔
موضوع کوگفتگو کے دوران ہمہ تن گوش ہو کر نئے چونکہ غلط نہیں ہی بہت سارے غصہ کی وجہ ہوتی ہے۔ اپنے گفتگو سننے کے فن میں عبور حاصل کیجئے ( گفتگو سننے کے فن پھر کبھی اور ذکر ہوگا)۔
پراعتماد اور پر وقار رہیں نہ کسی کے ذاتی مسئلے میں دخل دیں اور نہ ہی کسی کو اپنے ذاتی معاملات میں آنے کی اجازت دیں دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھیں اور اپنے حقوق اور فرائض کے بارے میں واضح رہیں در حقیقت یہ ایک ایسی جگہ ہے جو غصے اور لجلجانے کے درمیان اور یہی وہ جگہ ہے جو مناسب ترین ہے۔
معاف کریں بھول جائیں معاف کرنا بڑا وصف ہے تو مشکل مگر اور چارہ کار نہیں جبکہ بھول جانا اس سے بھی مشکل ہے اور صفت اولیا ہے غصہ کو قلیل کرنے کی سب سے بڑی راہ بھی یہی ہے ہاں واقعات تو نہیں بھولتے البتہ ان سے جذبات کو الگ کر کے انکو قلیل کیا جا سکتا ہے۔
غصہ ایک انتہائی طاقت ور جذبہ ہے جس کو اگر مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو محمد علی کلے، جهانگیرخان پیدا ہو سکتے ہیں اور اگر منفی ہو جائے تو پھر ہٹلر اور ہلاکو خان اور طالبان پیدا ہوتے ہیں۔
غصہ کے گھوڑے قابو میں رکھنے کیلئے اسے مانے، سمجھنے، دوستوں، عزیزوں سے ذکر کرنے اور شیطانی چکر میں پڑنے سے پہلے کنٹرول کریں اور مزاح اعتماد (خودی) اور معافی اور بھول جانے میں اس کا حل تلاش کریں۔
ایسا پڑھیں که یاد ہو جائے
آج کل کی معلومات تک رسائی انتہائی آسان ہے آپ کو کسی کتب خانے جانے کی ضرورت نہیں اسے آپ کمپیوٹر سمارٹ فون اور ٹیبلٹ پر پڑھ سکتے ہیں اور روز مرہ خبر تو ٹی وی پر بھی مل جاتی ہے۔
ہاں البتہ یہ سب کچھ یا درکھنا آسان نہیں ہے آئیے ہم آپ کو ایسا طریقہ کار بتائیں جس سے آپ پڑھنے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔
(جائزہ) طائرانہ نظر کتاب یا مضمون پڑھنے سے پہلے اس کا جائزہ لیں اور فیصلہ کریں کہ کیا زیر نظر مضمون کا عنوان اس قابل ہے کہ اس کو پڑھا جائے اور اس کا تعارف، دیباچه، عنوانات اور اگر ان خلاصے بھی موجود ہوں تو ان کو تصرف میں لا ئیں ۔ کتاب میں انڈر لائن کیے ہوئے جملہ موٹے حروف میں لکھے ہوئے مندرجات اور خصوصی توجہ والے حصے ضرور پڑھیں کیونکہ اکثر یہاں خاص اور قابل خاص معلومات ہوتی ہیں آخر میں تصاویر نقشے چارٹس اور اشکال کا معائنہ کریں۔ یہیں سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کتاب آپ کی ضرورت پوری کر سکتی یا نہیں۔
سوالات۔ پڑھنے سے پہلے ہی وہ سوالات دیکھ لیجئے جو اس مضمون سے متعلق آپ کے ذہن میں ہوں اور اس موضوع کو پڑھنے کی وجہ بھی زیر تحریر لائیں اور اس میں آپ کیا تلاش کرنا چاہتے ہیں اور یہ معلومات آپ کو کس طرح مدد کرسکتی ہیں۔ ئیںاور اور جب یہ سوال اپنے آپ سے کریں گے تو آپ کا ذہن ان جوابات کی تلاش میں سیکھنے کے عمل کیلئے تیار ہو جائے گا اور اس طرح سے بہت ساری معلومات آپ کو ذہن نشین ہو جائیں گی۔
اب پڑھنا شروع کیجئے ایک حصہ ایک وقت اور سمجھ کر اس حصہ کو نوٹ کرلیں جو آپ کو سمجھ نہ آیا ہو یہ آپ کو جوابات یا سمجھنے کیلئے مستقل میں مدد کریں گے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے اندازہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ مشکل مضامین پڑھنے اور سمجھنے میں زیادہ وقت لگتا ہے جب کہ کہانیاں افسانے اور ناول پڑھنا قدرے کم وقت لیتا ہے ہر مضمون ہیڈنگ کا جواب طلب کریں اور سمجھے بغیر آگے نہ بڑھیں جیسے کہ کسی مضمون میں موضوع کے فوائد لکھے ہوں اب جب تک وہ فوائد سمجھ نہ آئیں آگے نہ پڑھیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں اس موضوع کے کیا فوائد ہیں اور جواب اپنے ذہن میں دہرائیں۔
یاد کرنا ۔ جب ایک موضوع یا Chapter ختم کر لیا ہو تو پھر اسے ذہن میں کئی باردہرائیں اور خاص نقاط ذہن میں لے آئیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ خاص نقاط اس پورے ضمون میں کیسے صحیح بیٹھتے ہیں۔ پھر دوبارہ 2-Step والے سوالات پر جائیں جو مضمون پڑھنے سے پہلے آپ نے لکھے تھے ذہن میں ان کا جواب دیتے جائیں اور صرف جہاں جواب نہ دے سکیں تو کتاب / مضمون کھول کر اس کا جواب دیکھیں۔
جائزہ لینا۔ جب آپ نے یاد کر لیا تو ہر جائزہ لیں پہلے اس مضمون یا اپنے نوش کو دوبارہ پڑھیں اور کسی ساتھی سے ڈسکس کرلیں کسی سے ڈسکس کرنا انتہائی اہم حصہ ہے وضاحت سے جو کچھ سیکھا ہے اسے بتائیں اور کوشش کریں کہ آپ کی بات اسے بہتر طریقہ سے سمجھ میں آئے۔
آخر کار اس موضوع کو بار بار جائزہ لیں تا کہ تازہ رہے اگر آپ اسے ایک ہفتہ اور ایک مہینہ اور ایک سال بعد پڑھ لیں تو یہ پختہ ذہن نشین ہو جائے گا۔
اس طرح پڑھنے کی عادت کو اپنانے کیلئے جب بھی کوئی مطالعہ کریں یہ طریقہ کا راختیار کریں۔ شروع میں آپ کو محسوس ہوگا کہ اس کیلئے زیادہ وقت درکار ہے مگر کچھ عرصے بعد آپ اس طریقہ کے ماہر ہو جائیں گے اور کم ٹائم درکارہوگا۔ اس طرح سے آپ بہتر طریقے سے یاد کر پائیں گے۔
شروع میں یہ طریقہ تھوڑا مشکل تو ہے مگر آپ دو پہیوں والی سائیکل بھی تو تیزی سے چلا سکتے ہیں شوق اور لگن سے یہ بھی آسان ہو جائے گا۔


